کرکٹر راہول ڈریوڈ کو بنگلور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ دی
کرکٹر راہول ڈریوڈ کو بنگلور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ دی تھی، راہول ڈریوڈ نے واپس کردی۔ نہ صرف لوٹا دی بلکہ شاندار تقریر بھی کی، اس نے کہا- میری بیوی ڈاکٹر ہے، اس نے یہ لقب پانے کے لیے کئی راتیں اور دن بے خوابی میں گزارے۔ میری والدہ آرٹس کی پروفیسر ہیں، انھوں نے اس ڈگری کے لیے پچاس سال طویل انتظار کیا، ثابت قدم رہیں ۔ میں نے کرکٹ کھیلنے کے لیے بہت محنت کی ہے لیکن اتنا پڑھا نہیں ہے تو میرے پاس یہ ڈگری کیسے؟آئن سٹائن کو اسرائیلی حکومت نے 1952 میں ملک کا وزیر اعظم بننے کی دعوت دی تھی آئن سٹائن نے عاجزی سے کہا کہ میں فزکس کا معمولی طالب علم ہوں۔ میں ریاستی نظم و نسق کو کیا سمجھتا ہوں؟ پیرل مین نامی عالمی شہرت یافتہ ریاضی دان نے میدانی تمغوں اور انعامات کے لیے خطیر رقم واپس کی جسے دنیا بھر میں ریاضی کا نوبل انعام کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک خاندان بہت غریب تھا۔ ماں کے پیسے بچانے کے لیے حساب لگاتے رہنا پڑا۔ اس طرح سے ریاضی کی تھوڑی سی مہارت دکھانے میں کامیاب ہوا۔ اب کوئی کمی نہیں ہے تو اتنے پیسوں کا کیا کروں گا؟ان لوگوں کی شرافت دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں، تو میں انتہائی متکبر ، مغرور، یا عجیب لوگوں کا عکس دیکھ سکتا ہوں۔ایک بار بھارتی چیف الیکشن کمشنر شری ٹی این سیشان، اتر پردیش کے دورے پر روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔راستے میں، وہ ایک باغ کے قریب رکے۔ باغ کے درختوں پر پرندوں کے بیشمار گھونسلے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خواہش ظاہر کی کہ باغ کے کسی درخت سے کوئی گھونسلا لیتے چلیں، تاکہ میں انہیں اپنے گھر میں سجاؤں.سیشان جی نے اپنے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سے کوئی گھونسلہ اٹھا کر لانے کو کہا۔پولیس والوں نے ایک لڑکے سے جو قریب ہی گائیں چرا رہا تھا، دس روپے دیتے ہوئے کوئی ایک گھونسلہ درخت پر سے اتار کر لانے کو کہا ، لیکن وہ لڑکا گھونسلہ لانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ٹی این سیشان نے پولیس والوں سے اس لڑکے کو دس کے بجائے پچاس روپے دینے کو کہا، اس پر بھی وہ لڑکا تیار نہیں ہوا۔سیشان نے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اسے کہا: کہ وہ گھونسلا اتارنے سے کیوں انکار کر رہا ہے کیا اسے زیادہ پیسے چاہییں لڑکے نے مودب طریقے سے کہا “جناب! گھونسلے میں پرندوں کے بچے ہیں، اور ان کے والدین دانا دنکا چگنے گئے ہوئے ہیں جب پرندے شام کو کھانا لیکر لوٹیں گے تو ، انھیں اپنے بچوں کو نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوگا.اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مجھے اس کام کے لیے کتنا معاوضہ دیتے ہیں. میں پرندوں کے کسی گھونسلے کو اتار کر نہیں لا سکتا اور پرندوں کے ان بچوں کو بے گھر نہیں کر سکتا۔”اس واقعے کا ٹی این سیشان کو زندگی بھر افسوس رہا کہ ایک چرواہا بچہ ایسی سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے اندر اتنی حساسیت رکھتا ہے جبکہ میں اتنا تعلیم یافتہ اور انڈین سول سروس کا کوالیفائیڈ ہونے کے بعد بھی اس بچے جیسی سوچ اور احساس اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا.وہ ساری زندگی ہمیشہ ہی رنجیدہ رہے کہ ان میں وہ حساس فطرت کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ جو اس دیہاتی بچے میں تھی، اعلیٰ تعلیم کس نے حاصل کی؟ میں نے یا اس بچے نے؟انہیں شدت سے اس بات کا احساس رہا کہ اس چھوٹے لڑکے کے سامنے ان کا مؤقف اور آئی اے ایس ہونا بالکل ھیچ نکلا۔تعلیم ، سماجی مقام اور معاشرتی حیثیت، انسانیت کا معیار نہیں ہے۔ محض بہت سی معلومات جمع کرنے کو علم نہیں کہا جاسکتا! زندگی تبھی خوشگوار ہے جب آپ کی تعلیم انسانیت کے تئیں حکمت ، شفقت اور ذہانت کا پتہ دیتی ہو !!(منقول)
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!